29 ستمبر 2012 - 20:30

"حجت الاسلام والمسلمین سید مرتضی مرتضی عاملی" نے کہا: رسول اللہ (ص) کی توہین سے مغرب کا مقصد دنیا کے دینداروں کے جذبات کو مجروح کرنا اور بین المذاہب کشمکش کو ہوا دینا ہے؛ تمام عقلاء مانتے ہیں کہ مطلق آزادی کا کوئی وجود نہيں ہے بلکہ آزادی اس وقت تک ہے جب تک یہ دوسروں کی آزادی کو پامال نہ کرے۔ جو آزادی افراد، قومیتوں اور معاشروں کی توہین کا باعث بنے وہ قابل قبول نہیں ہے اور یہ عقل کا حکم ہے؛ امریکہ اور مغربی ممالک جب بھی ضروری سمجھتے ہیں آزادیوں کا سد باب کرتے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ کے مؤسسہ اہل بیت (ع) کے سربراہ اور عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی شورائے عالی کے رکن "حجت الاسلام والمسلمین سید مرتضی مرتضی عاملی" نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین سے عالمی استکباری محاذ کا مقصد دنیا کے تمام دینداروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا اور مسلم و غیر مسلم کے درمیان جنگ کی فضا پیدا کرنا ہے۔انھوں نے کہا: مذہبی اختلاف اہم ترین اختلاف ہے اور میرے خیال میں توہین اور اسلام فوبیا کی صورت حال اس بات سے شروع ہوئی ہے کہ امریکہ اور اس کے حلیفوں نے نئی جنگ کا آغاز کیا ہے اور وہ جنگ، مذہبی جنگ اور دینی جذبات کو مجروح کرنے سے عبارت ہے؛ فرق نہیں پڑتا کہ یہ جنگ شیعہ اور سنی کے درمیان ہو یا مسلمان اور عیسائی کے درمیان ہو، یا حتی سنی اور سنی یا شیعہ اور شیعہ کے درمیان ہو۔ حالیہ فلم کے مسئلے میں آپ نے دیکھا کہ انھوں نے مصر میں مسلمانوں اور قبطی عیسائیوں کے درمیان جنگ شروہ کرانے کی کوشش کی۔ انھوں نے کہا: خوش قسمتی سے مستکبرین ابھی تک مشرق وسطی میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مذہبی جنگ شروع نہیں کراسکے ہیں۔انھوں نے کہا: امریکہ اور اس کی ہم فکر قوتوں کا ایک مقصد یہ ہے کہ علاقے کے ملکوں کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تبدیل کریں تا کہ اسرائیل طاقتور ہوجائے اور اس کی سلامتی یقین بنائی جاسکے۔ وہ اس مقصد کے لئے سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہیں اور ان کے لئے اس بات کی کوئي اہمیت نہيں ہے کہ حتی مشرق وسطی کے تمام عیسائی نیست و نابود ہوکر رہ جائیں۔ اس نامی گرامی عالم دین نے ابنا کے نامہ نگار سے بات چیت کرتے ہوئے امریکہ کی طرف سے بیان کی آزادی کے دعؤوں کا جواب دیا اور کہا: تمام عقلا تسلیم کرتے ہیں کہ مطلق آزادی کا وجود ہی نہیں ہے بلکہ آزاد اس وقت تک ہے جب تک یہ آزادی دوسروں کی آزادے سے متصادم نہ ہو؛ دوسری جانب سے وہ آزادی جو افراد، قومیتوں اور معاشروں کی توہین کرے، کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں ہے اور یہ عقل کا فیصلہ ہے۔ اور پھر مغرب میں بھی جب بھی ضروری سمجھا جائے دوسروں کی آزادی بیان اور اظہار اعتقاد کا راستہ روک دیا جاتا ہے۔ سید مرتضی عاملی نے امریکہ میں انسانی آزادیوں کے انسداد کی چند مثالیں بھی دیں اور کہا: اگر وہ واقعی بیان کی آزادی کے قائل ہیں تو سیٹلائٹ چینلز کی نگرانی کرنا اور ان کو ممنوع قرار دینا بھی تو آزادی کی پامالی کے زمرے میں آتی ہے؛ واقعہ یہ ہے کہ امریکہ میں اگر کوئی لبنان کے سیٹلائٹ چینل کو دیکھے تو اس کو آزار و اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ انھوں نے کہا کہ امریکہ میں انسانی آزادیوں کی پامالی کی ایک مثال اور؛ امریکیوں نے یہ قانون کیوں منظور کیا ہے کہ "سامیوں (یعنی یہودیوں) کی مخالفت (Anti Semitism) منع ہے؟ پس ہم دیکھتے ہیں کہ وہ عملی میدان میں آزادی کے قائل نہیں ہیں بلکہ اس وقت تک اس مسئلے کے معتقد ہیں جب تک وہ ان کے فائدے میں ہو"۔ انھوں نے کہا: ان اہانتوں اور گستاخیوں کے لئے حکمت عملی یہ ہے کہ مسلمان اپنے فرائض پر بحسن و خوبی عمل کریں؛ ہمارا فرض بنتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ ان مظاہروں اور احتجاجی ریلیوں اور دھرنوں کا کوئي فائدہ نہیں ہے اور اس بات کا جواب یہ ہے کہ ہمیں یہ حق نہيں پہنچتا کہ اپنی شرعی اور سماجی ذمہ داریوں سے جان چھڑائیں۔انھوں نے کہا: مظاہرے اور احتجاج مسلمانوں کا عقلی، عرفی اور قانونی حق ہے لیکن ان مظاہروں سے غلط فائدہ اٹھانا، یا بےگناہ افراد کو قتل کرنا اور انتقام لینا جائز نہيں ہے لیکن اگر کسی نے غلطی کی تو دوسروں کو یہ حق نہيں پہنـچتا کہ وہ خاموش بیٹھیں۔ سب کو نفرت اور اپنی تشویش اور ناراضگی کا اعلان کرنا چاہئے۔ انھوں نے بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے مناسب اقدام کو اہم حکمت عملی قرار دیا اور کہا ہمیں اس قضیئے کو اقوام متحدہ میں پیش کرنا چاہئے تا کہ یہ عالمی ادارہ ادیان کی توہین کو قانون کی صورت میں منظور کرے اور اس کا عملی طور پر سد باب کیا جائے؛ کیونکہ یہ کام اجتماعی برائیوں کا سبب بنتا ہے اور جنگ، جھگڑوں اور دشمنیوں کا باعث بنتا ہے اور یہ بنی نوع انسانی کے مفاد کے خلاف ہے۔ انھوں نے ابنا کے ساتھ اپنی گفتگو کے آخر میں امید ظاہر کی کہ انشاء اللہ تمام حکومتیں اور عوام اپنے فرائض پر عمل کریں اور امن و سلامتی ہر جگہ قائم ہوجائے اور انسان اپنی فطرت اور عقلیت کی جانب لوٹیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110